بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لائسنس کے بغیر اسلحہ کا  کاروبار کرنا

سوال

لائسنس کے بغیر اسلحہ کا  کاروبار کرنا جائزہے؟ اور اس کی ڈیلیوری کے لیے جو پیسے لیے جاتے ہیں کیا یہ لینا جائز ہے؟

جواب

حکومت کے شریعت سے غیر متصادم اصولوں کی پاس داری شرعاً  ضروری ہے؛  لہذا  حکومتی اجازت کے بغیر اسلحے کی خرید و فروخت درست نہیں ہے؛ تاہم اگر کسی نے کبھی بیچ کر پیسہ کمایا تو (صلبِ عقد میں شرعی فساد نہ ہونے کی وجہ سے) وہ رقم استعمال کرنا  حلال ہوگا؛ لیکن قانون شکنی کی صورت میں  مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ  ساتھ  سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے،  اور اپنے آپ کو ذلت  کے مواقع سے بچانا شرعاً ضروری ہے۔

باقی اس کی ڈیلیوری میں پیسے دینے سے مراد اجرت ہے تو  وہ درست ہے، اور اگر مراد کسی قسم کی رشوت کی ادائیگی یا وصولی  ہے تو وہ جائز نہیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201394
تاریخ15-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں