بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریح خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے / ہر نماز کے لیے تازہ وضو کا حکم

سوال

کیا ہر نماز سےپہلے وضو کرنا ضروری ہے چاہے ہوا خارج بھی ہو؟

جواب

اگر ریح خارج ہوجائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتاہے اس صورت میں وضو کرنا لازم اور ضروری ہے، بغیر وضوکیے نماز کی ادائیگی جائز نہیں ہے۔البتہ ریح کے خارج ہونے سے استنجا کرنالازم نہیں۔صرف وضو کرنا کافی ہے۔

تاہم اگر کوئی شخص باوضو ہو اور نماز کا وقت ہوجائے اور اس وقت  تک اس کا وضو برقرار ہو تو ایسے شخص کے لیے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، سابقہ وضو سے نماز ادا کرسکتا ہے، البتہ پہلے سے کیے ہوئے وضو سے اگر کسی بھی قسم کی عبادت کرچکا ہو تو وضو ہونے کے باوجود دوبارہ تازہ وضو کرنے پر حدیث شریف کے مطابق یہ شخص دس نیکیوں کا مستحق بن جاتاہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

" وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْه وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلٰی طُهرِ کُتِبَ لَه، عَشْرُ حَسَنَاتِ". (رواه الترمذي)".

ترجمہ : اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جو آدمی وضو کے اوپر وضو کرے تو اس کے واسطے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201362
تاریخ15-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں