بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ٹرین یا ہوائی جہاز کا سفر بہنوئی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے؟

سوال

ٹرین یا ہوائی جہاز کا سفر بہنوئی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جب کہ بہن بھی ساتھ ہو ؟

جواب

عورت کے لیے سفر شرعی میں  محرم کا ہونا ضروری ہے اور سفر شرعی  اڑتالیس میل یعنی تقریباً (۲۴ء۷۷)سوا ستترکلو میٹرہوتاہے؛ لہذا ایسا سفر بغیر محرم کے کرنا  (اگرچہ بہن ساتھ ہو) جائز نہیں ہوگا، اور بہنوئی محارم میں سے نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: لایحل لامرأة مسلمة تُسافر مسیرة لیلة إلا ومعها رجلٌ ذو حُرمة منها". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201310
تاریخ14-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں