بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استنجا میں غالب گمان کافی ہے

سوال

استنجا کرتے وقت ہمیں کیسے پتا چلے گا استنجا ہمارا ہوگیا ہے؟ عام طور پر ہم جلدی جلدی ہاتھ  مارتے پانی ڈالتے چلتے بنتےہیں، ہمیں کیسے یقین ہوگا کہ استنجا والی جگہ اب صاف ہوچکی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب ظنِ غالب ہوجائے کہ استنجا ہوگیا ہے تو یہ کافی ہے، اور عام طور پر تین مرتبہ اہتمام سے استنجا کی جگہ دھونے سے صفائی اور پاکی حاصل ہوجاتی ہے، پیشاب سے فراغت کے لیے کھنکھار کر، یا قدموں پر باری باری بوجھ تبدیل کرکے، یا اٹھ کر چند قدم چل کر قطرے نکلنے کا اطمینان کرکے پانی بہادینا کافی ہے؛ لہذا اس عمل میں بہت مبالغہ کرنے اور وسوسوں کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201274
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں