بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باہمی رضامندی سے غیر فطری طریقے سے ہم بستری کرنے سے نکاح ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

سوال

 ایک شوہر نے جان بوجھ کر اپنی زوجہ کی دبر میں وطی کی اور زوجہ بھی اس عمل پر راضی ہے، کیا اس عمل سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے جب کہ زوج کی بھی رضامندی شامل ہو؟

جواب

مذکورہ فعل پر حدیثِ مبارک میں لعنت اور سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، زوجہ بھی راضی ہے تو وہ بھی گناہ میں شریک ہوگی، اس لیے اگر یہ عمل ہوگیا ہو تو صدقِ دل سے توبہ و استغفار لازم ہے، البتہ اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا چاہے زوجین کی رضامندی سے ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

غیر فطری طریقے سے ہم بستری کرنے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201261
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں