بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر بچہ مردہ پیدا ہو جائے تو اس کے احکامات کیا ہیں؟

سوال

اگر بچہ مردہ  پیدا ہو جائے تو  اس کے احکامات کیا ہیں؟

جواب

اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اسے مسنون کفن دینے اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اسے غسل دینے کے بعد کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردینا چاہیے، یہی اس کا کفن ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 228):

"(وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني، وهو الأصح، فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراماً لبني آدم، كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر، هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه)". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201250
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں