بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ دار نے آرائش وغیرہ کا کام کرایا تو کیا اس کا خرچہ مالک پر لازم ہے؟

سوال

میں نے اپنا مکان ایک شخص کو کرایہ پر دیا،  اس شخص نے میری اجازت اور مجھے بتائے بغیر میرے مکان میں کچھ آرائش کا کام کروا لیا،  مجھے اس کا علم تب ہوا جب مکان خالی ہوا،  اب وہ شخص کہتا ہے کہ اس آرائشی کام پر میرے اتنے پیسے لگے ہیں،  لہذا آپ مجھے وہ پیسے دیں۔  کیا مجھ پر وہ پیسے دینے لازم ہیں؟ جب کہ نہ اس نے مجھ سے وہ کام کرنے کی اجازت لی اور نہ ہی مجھے بتایا  اور نا میرا وہ کام کروانے کا کوئی ارادہ تھا!

جواب

کرایہ دار  نے آپ  کی اجازت  و  رضامندی کے بغیر مکان میں آرائش وغیرہ کا جو کام کرایا ہے،  اس کا خرچہ آپ کے  ذمے لازم نہیں ہے۔

فتاوی شامی  (6 / 79)میں  ہے:

"(و عمارة الدار) المستأجرة (و تطيينها و إصلاح الميزاب و ما كان من البناء على ربّ الدار) و كذا كلّ ما يخل بالسكنى ... (و إصلاح بئر الماء و البالوعة و المخرج على صاحب الدار) لكن (بلا جبر عليه) لأنه لايجبر على إصلاح ملكه (فإن فعله المستأجر فهو متبرع).

(قوله: فهو متبرع ) أي و لايحسب له من الأجرة."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108201247
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں