بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن اذان کے بعد گاؤں / دیہات میں خرید وفروخت کا حکم

سوال

جمعہ کی دن نمازِ  جمعہ منعقد نہ ہونے والے گاؤں میں خرید وفروخت اور کاروبار وغیرہ میں اشتغال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

 جن جگہوں میں جمعہ جائز نہیں ایسی جگہوں میں  ظہر کی اذان کے بعد  خرید و فروخت میں  کوئی مضائقہ نہیں؛ کیوں کہ جمعہ کے دن  اذان کے بعد خرید و فروخت کے مکروہ ہونے کی علت سعی الی الجمعہ اور استماعِ خطبہ میں خلل ہے،  اور یہ علت ظہر میں مفقود ہے ۔ (کفایت المفتی 3/284، ط: دارالاشاعت)

 لہذا جس گاؤں میں جمعہ قائم کرنا جائز نہ ہو،  وہاں جمعہ کی دن  ظہر کے وقت خرید وفروخت منع نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 101):
"(وكره) تحريمًا منع الصحة (البيع عند الأذان الأول) إلا إذا تبايعا يمشيان فلا بأس به؛ لتعليل النهي بالإخلال بالسعي، فإذا انتفى انتفى، وقد خص منه من لا جمعة عليه، ذكره المصنف". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201241
تاریخ13-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں