بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلی کو کھانا دینا

سوال

 کھانا کھانے کے دوران اگر پڑوسی کی بلی آ جائے تو اس کو اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کے دینا کیسا ہے؟ نیز کسی کے گھر میں دعوت کھانے کے دوران اگر کوئی بلی آجائے تو صاحبِ خانہ کی اجازت کے بغیر اس بلی کو اپنی پلیٹ سے کھانا نکال کے دینا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

جانوروں کے ساتھ محبت اور ہم دردی کرنا لائقِ ستائش ہے، اگر کھانے کے دوران اپنی یا پڑوسی کی بلی یا کوئی بھی بلی سامنے آ جائے تو اُس کو  اپنی پلیٹ سے کھانا  دینا  نیکی کا کام ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

اگر کہیں مہمان ہو  تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میزبان نے مہمان کو کھانے کا مالک بنا دیا ہو تو مہمان کو اختیار ہے کہ اس میں جس طرح کا تصرف کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے، لیکن اگر میزبان نے مہمان کو کھانے کا مالک نہ بنایا ہو، بلکہ کھانا کھانے کے لیے فراہم کیا ہو تو ایسی صورت میں  صاحبِ خانہ کی اجازت کے بغیر بلی کو صاف کھانا نہیں دینا چاہیے، لہٰذا اگر صاحبِ خانہ کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً اجازت ہو تو بلی کو کھانا دے سکتے ہیں، اور اگر اندازا ہو کہ صاحبِ خانہ اسے محسوس کرے گا تو بلی کو اس کے کھانے میں سے کھانا نہ دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201219
تاریخ12-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں