بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زبان سے نماز کی نیت کرنا ضروری نہیں

سوال

بعض اوقات بندہ سنتیں ادا کر رہا ہوتا ہے، اتنے میں جماعت کھڑی ہو جاتی ہے اور بندہ سلام پھیرنے کے بعد چلتے چلتے نماز کی نیت کر سکتا ہے یا صف میں کھڑے ہو کر ہی نیت کرنی چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے مخصوص الفاظ کے ساتھ نماز کی نیت کرنا نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ ہی سنت، لہذا سنت سے فارغ ہوکر جماعت میں شامل ہونے کی نیت سے قدم اٹھانا  ہی نیت کے لیے کافی ہے، تکبیر کہنے سے پہلے صف میں کھڑے ہوکر زبان سے نیت کرنے کی شرعاً ضرورت نہیں، اور اگر کوئی کرلیتاہے تو اس میں حرج بھی نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201213
تاریخ12-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں