بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلحہ پر زکاۃ

سوال

کیا اسلحہ پر زکاۃ ہوگی؟

جواب

اگر  اسلحہ تجارت کے لیے ہو  اور تنہا یا دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور قرض نہ ہو، یا قرض ہو تو اسے منہا کرنے کے بعد بھی نصاب کے بقدر مالِ زکاۃ باقی رہے تو  اس پر سالانہ زکاۃ واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 348):
"كانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201177
تاریخ12-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں