بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی زندگی میں دادا کے انتقال کی صورت میں پوتوں کا میراث میں حصہ

سوال

کیا بیٹے کے انتقال کے بعد اس کے بچے وراثت کے حق دار ہیں ،جب کہ باپ یعنی دادا   کا انتقال بیٹے سے پہلے ہوا اور دادی اب تک حیات ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کے انتقال کے وقت اس کا بیٹا زندہ ہو اور پھربیٹے کا انتقال ہوجائے تو  اس کی اولاد کو اپنے والد کے واسطے سے دادا کی میراث میں سے حصہ ملے گا، پھراگر  اس شخص  کی والدہ کا انتقال  اس کی وفات کے بعد ہوا ہو  تو والدہ کے اس حصہ میں جو اسے اپنے شوہر کی طرف سے ملا ہے اور  والدہ کی دیگر جائیداد میں بیٹے کی اولاد (پوتوں) کو والد کے واسطے سے بطورِ میراث حصہ نہیں ملے گا، لیکن اگر یہ پوتے دادی کے ورثا ہوں تو انہیں اپنی دادی کی جائیداد سے براہِ راست حصہ  ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201113
تاریخ11-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں