بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان یا مکان کی ایڈوانس رقم پر زکاۃ

سوال

کرایہ کے مکان یا دکان کے لیے جو ایڈوانس دیا ہو، اس پر زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

بوجۂ ضرورت و عرف کرایہ کے مکان یا دکان کے لیے ایڈوانس رکھوانا جائز ہے،  اور یہ رقم دکان یا مکان کے مالک کے پاس بطورِ امانت ہوگی اوراس کااصل مالک کرایہ دارہی ہوتا ہے؛ لہذا اس کی زکاۃ کرایہ دار کے ذمہ ہے جو اس پر مذکورہ رقم کی وصولی کے بعد دینا لازم ہوگی، تاہم اگر زکاۃ کا سال پورا ہوجائے تو وصولی سے پہلے بھی اس کی زکاۃ ادا کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201106
تاریخ11-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں