ایک مرد کا دو بہنوں سے شادی کرنے کا حکم
سوال
کیا ایک مرد دو بہنوں سے شادی کرسکتا ہے؟ شریعت مطہرہ کے اعتبار سے یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے ایک شخص ایک وقت میں دو بہنوں کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا ہے، جب تک ایک بہن نکاح میں ہو ، یا اسے طلاق دی ہو اور اس کی عدت جاری ہو تو دوسری بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوجائے تو وہ اپنی بیوی کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی عدت گزرنے کے بعد اس شخص کے لیے سابقہ بیوی کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

