بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مرد کا دو بہنوں سے شادی کرنے کا حکم

سوال

کیا ایک مرد دو بہنوں سے شادی کرسکتا ہے؟ شریعت مطہرہ کے اعتبار سے یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ  کی رو سے ایک شخص ایک وقت میں دو بہنوں کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا ہے، جب تک ایک بہن نکاح میں ہو ، یا اسے طلاق دی ہو اور اس کی عدت جاری ہو تو  دوسری بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوجائے تو  وہ اپنی بیوی کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس کی عدت گزرنے کے بعد اس شخص کے لیے سابقہ بیوی کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201091
تاریخ11-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں