بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا جائز نہیں

سوال

شوقیہ طور پر بیوی کا دودھ پینا جائز ہے؟

جواب

شوہر کے لیے بیوی کا دودھ پینا جائز نہیں ہے، چاہے شوقیہ  ہو ۔

البتہ اگر کسی نے اپنی بیوی کادودھ پی لیا تو اس سے بیوی مرد پر حرام نہیں ہوگی۔لیکن جان بوجھ کر بیوی کا دودھ پینے کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا۔اس لیے کہ دودھ جزانسان ہے، اور اس کا بلاضرروت استعمال حرام ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

’’بڑی عمر میں کسی عورت کا دودھ پیناجائز نہیں، حرام ہے۔لیکن نکاح نہیں ٹوٹے گا، گناہ گار ہوگا۔لہذا صورتِ مسئولہ میں مردوعورت دونوں سخت گناہ گار ہیں، اور خدا ورسول ﷺکے نافرمان ہیں ، ان کو اس ناپاک حرکت سے توبہ کرکے باز آنا ضروری ہے‘‘۔ (8/20دارالاشاعت)

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (3 / 211):

"(ولم يبح الإرضاع بعد مدته)؛ لأنه جزء آدمي، و الانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح، شرح الوهبانية".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (3 / 225):

"مص رجل ثدي زوجته لم تحرم". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201045
تاریخ10-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں