بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن ظہر کی نماز

سوال

کیا جمعہ کے دن ظہر  کی نماز  پڑھ  سکتے ہیں؟

جواب

جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط موجود ہونے کی صورت میں بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا گناہ ہے، اور  اگر کسی نے ظہر پڑھ  ہی لی تو اس  سے وقت کا فریضہ ساقط ہوجائےگا، البتہ کہیں جمعہ ملنے کی امید ہو تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ جمعے کے اجتماع میں حاضر ہوکر جمعہ ادا کرے، اس صورت میں ظہر کی ادا کی گئی نماز نفل ہوجائے گی۔  اور   اگر جمعے کی شرائط مکمل نہ ہوں تو  شہر میں ظہر کی نماز تنہا ادا کی جائے۔ اور گاؤں دیہات (جہاں جمعہ قائم کرنا درست نہیں ہوتا) میں جمعے کے دن بھی ظہر کی نماز  ہی  باجماعت ادا کی جائے گی۔

المبسوط للسرخسي (2 / 25):

"و أما الإساءة فلتركهم أداء الجمعة بعد ما استجمعوا شرائطها، وفي حديث ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك ثلاث جمع تهاونًا بها طبع على قلبه»."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201021
تاریخ10-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں