بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعے اور پندرہ شعبان کا روزہ

سوال

اگر صرف جمعہ کے دن کا  15 شعبان کی وجہ سے روزہ رکھے تو شرع میں اس کی اجازت ہے ؟

جواب

پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے، حدیث  شریف  سے ثابت  ہے، اسے ناجائز سمجھنا اور  اس  دن  روزہ رکھنے والوں کو طعنہ دینا یا اس دن کے روزے کو لازم سمجھنا اور نہ رکھنے والوں کو طعنہ دینا یہ سب افراط و تفریط اور غلط ہے، سنن ابنِ ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  :

"رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے طلوعِ فجر ہونے تک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :ہے کوئی مغفرت کا طلب گار  کہ میں اس کی مغفرت کروں!  ہے کوئی روزی کا طلب گار  کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ہے ! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔"

لہٰذا پندرہ شعبان کا روزہ جمعے کے دن ہو یا کسی اور دن، یہ روزہ رکھنا مستحب ہے۔

جہاں تک جمعے کے دن روزہ رکھنے کا حکم ہے تو فی نفسہ جمعہ کے دن نفل روزہ رکھنا جائز ہے، لیکن جمعے کے دن کو روزے کے  لیے مخصوص سمجھنا یا زیادہ ثواب سمجھتے ہوئے اس دن روزے کا التزام  کرنا شرع میں پسندیدہ نہیں ہے، لیکن اگر کوئی التزام یا تخصیص کے بغیر جمعہ کا روزہ رکھ لے تو یہ ممنوع نہیں ہے۔ اور ایامِ بیض میں جمعے کا دن آجائے یا یومِ عرفہ، عاشوراء یا پندرہ شعبان جمعے کے دن آجائے تو جمعے کے دن ان ایام کی مناسبت سے روزہ رکھنا نہ صرف جائز ہوگا، بلکہ ان ایام میں روزے کے جو فضائل ہیں وہ بھی حاصل ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108201020
تاریخ10-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں