بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا وتر کی امامت کے لیے دعائے قنوت یاد ہونا ضروری ہے؟

سوال

کیا وتر کی امامت کے لیے دعائے قنوت یاد ہونا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے علاوہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں وتر کی نماز باجماعت ادا کرنا علی سبیل التداعی (چار یا چار سے زیادہ افراد ہوں) مکروہ ہے، صرف رمضان المبارک میں وتر کی نماز باجماعت ادا کرنی چاہیے، بہرحال رمضان المبارک میں جس شخص کو دعائے قنوت یاد نہیں اگر وہ وتر کی نماز پڑھائے گا، نماز تو ہوجائے گی، لیکن ایسے شخص کو امامت نہیں کرنی چاہیے، اگر وہ امامت کا خواہش مند ہو تو اسے چاہیے ابھی سے دعائے قنوت یاد کرنا شروع کردے، جب تک یاد نہ امامت وتر سے اجتناب کرے۔ 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2 / 45):
"وَيَنْبَغِي تَصْحِيحُهُ وَمَنْ لَايُحْسِنُ الْقُنُوتَ بِالْعَرَبِيَّةِ أو لَايَحْفَظُهُ فَفِيهِ ثَلَاثَةُ أَقْوَالٍ مُخْتَارَةٍ، قِيلَ: يقول: يا رَبُّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ، وَ قِيلَ: يقول: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَ قِيلَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وفي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الِاخْتِلَافَ في الْأَفْضَلِيَّةِ لَا في الْجَوَازِ، وإن الْأَخِيرَ أَفْضَلُ لِشُمُولِهِ وإن التَّقْيِيدَ بِمَنْ لَايُحْسِنُ الْعَرَبِيَّةَ ليس بِشَرْطٍ بَلْ يَجُوزُ لِمَنْ يَعْرِفُ الدُّعَاءَ الْمَعْرُوفَ أَنْ يَقْتَصِرَ على وَاحِدٍ مِمَّا ذُكِرَ لِمَا عَلِمْت أَنَّ ظَاهِرَ الرِّوَايَةِ عَدَمُ تَوْقِيتِهِ".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار  (2 / 48):
"(ولايصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك لوعلى سبيل التداعي بأن يقتدي أربعة بواحد، كما في الدرر، ولا خلاف في صحة الاقتداء إذ لا مانع،  نهر". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200934
تاریخ09-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں