بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی اقتدا میں مقتدی کا ایک سجدہ چھوٹ گیا

سوال

امام اگر نماز پڑھاتے ہوۓ ایک سجدہ کرنے کے بعد دوسرے سجدے کی تکبیر کہے اور مقتدی کو اس کی آواز نہ آۓ مقتدی کا ایک سجدہ چھوٹ جاۓ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مقتدی کو جب علم ہوا کہ امام دوسرا سجدہ بھی کرچکا ہے تو اسے چاہیے تھا کہ دوسرا سجدہ کرکے امام کی متابعت جاری رکھتا، اگر سجدہ کیے بغیر اس نے دیگر ارکان میں امام کی متابعت کی ہے (اور چھوٹا ہوا سجدہ نماز کے اندر نہیں کیا) تو اس کی نماز باطل ہوگئی ہے، اس کا اعادہ لازم ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (1 / 471):

"نعم تكون المتابعة فرضًا بمعنى أن يأتي بالفرض مع إمامه أو بعده، كما لو ركع إمامه فركع معه مقارنًا أو معاقبًا وشاركه فيه أو بعد ما رفع منه فلو لم يركع أصلاً أو ركع و رفع قبل أن يركع إمامه ولم يعده معه أو بعده بطلت صلاته". (کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مطلب مهم تحقيق متابعة الامام،ط:سعيد)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200932
تاریخ08-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں