بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شبِ براءت میں کیا ہوتا ہے؟

سوال

کیا شبِ  براءت میں نامہ اعمال تبدیل ہوتے ہیں؟

جواب

شبِ براءت میں نامہ اعمال تبدیل نہیں ہوتے،  بلکہ اگلے سال کے لیے فیصلے ہوتے ہیں جو کہ شبِ قدر میں فرشتوں کو سپرد کیے جاتے ہیں۔

نظام الفتاوی میں ہے :

"یا پھر یہ مراد ہے کہ فیصلہ تو ہوتا ہے شعبان کی پندرہویں شب میں،  اور اس کا نفاذ و فرق یعنی کارکن ملائکہ کو سپردگی، یہ شب قدر میں ہوتی ہے ۔۔۔  اس توجیہ سے بھی سب روایات ایک دوسرے سے منطبق ہوجاتی ہیں۔" (ج۲ / ص۳۹)

تفسير الألوسي = روح المعاني (13 / 112):

"عن عكرمة أنه قال في الآية: في ليلة النصف من شعبان يبرم أمر السنة وينسخ الأحياء من الأموات ويكتب الحاج فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم أحد، وفي كثير من الأخبار الاقتصار على قطع الآجال.
أخرج ابن جرير والبيهقي في شعب الإيمان عن الزهري عن عثمان بن محمد بن المغيرة بن الأخفش قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقطع الآجال من شعبان إلى شعبان حتى أن الرجل لينكح ويولد له وقد خرج اسمه في الموتى».
و أخرج الدينوري في المجالسة عن راشد بن سعد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «في ليلة النصف من شعبان يوحي الله تعالى إلى ملك الموت بقبض كل نفس يريد قبضها في تلك السنة»."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200929
تاریخ08-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں