بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نیک عورت کو اس کے شوہر کی عبادت سے حصہ ملے گا؟

سوال

میں  نے سن رکھا ہے نیک عورت کو اس کے شوہر کی عبادت سے حصہ  ملے گا، کیا یہ درست ہے؟ براہِ کرم حدیثِ  مبارک  کے حوالے کے  ساتھ راہ نمائی فرمائیں!

جواب

’’نیک عورت کو اس کے شوہر کی عبادت سے حصہ ملے گا‘‘ کا یہ مطلب ممکن ہے کہ  نیک  عورت اگر  اپنے  شوہر  کے نیک اعمال میں اس  کی  معاون بنے یا اُسے گناہوں سے  ہٹاکر نیکی کی طرف  لائے   تو شوہر کی نیکیوں میں عورت بھی برابر اجر و ثواب کی مستحق ہوگی، اور  یہ حکم ہر اس شخص کا ہے جو کسی کو نیکی  کی راہ پر  لگائے یا نیکی کے کام میں معاون بنے۔ 

سنن أبي داود  (7/ 447):

"عن أبي مسعود الأنصارى، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله ، إني أبدع بي فاحملني، قال: "لا أجد ما أحملك عليه، و لكن ائت فلانًا، فلعله أن يحملك" فأتاه، فحمله، فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم، فأخبره، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من دلّ على خير فله مثل أجر فاعله."

(أبواب النوم،باب في الدال على الخير كفاعله، ط: دارالرسالة العالمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200927
تاریخ08-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں