بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پروویڈنٹ، گریجویٹی، تجارتی پلاٹ اور پنشن فنڈ پر زکوۃ

سوال

1 : پرویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

2 : گریجویٹی فنڈ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

3 : تجارت کی نیت سے رکھے پلاٹ پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

4 : میری تنخواہ سے 10٪ کٹوتی ہوکر میرے پنشن فنڈ میں جاتا ہے جو میں نے اب تک نہیں نکالے ہیں، میں جب چاہوں گا تو نکال لوں گا، اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

1 : پروویڈنٹ کی مروجہ صورتوں میں گزشتہ سالوں کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی، البتہ جب مذکورہ پیسے وصول کر لیے جائیں اور سال پورا ہونے کے وقت ان میں سے ضرورت سے زائد رقم نصاب تک پہنچے تو اس کی زکوۃ ادا کرنا ہوگی۔

 مزید تفصیل یہاں ملاحظہ کریں۔

2 : اگر گریجویٹی  کی رقم نصاب کے بقدر ہو تو  یہ رقم ملتے ہی آدمی صاحبِ نصاب بن جائے گا (بشرطیکہ اتنا قرض ذمے میں نہ ہو جو صاحبِ نصاب بننے سے مانع ہو)، اور اس رقم  کے ملنے پر جب سال گزرجائے اور یہ رقم موجود ہو تو اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکاۃ واجب ہوگی۔

 مزید تفصیل یہاں دیکھیں

3 : ایسے پلاٹ کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کرکے اس کی زکوۃ نکالیں گے۔

4 :صورتِ  مسئولہ میں پنشن فنڈ وصول ہونے کے بعد اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200925
تاریخ08-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں