نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ’’آمین‘‘ اونچی آواز سے کہنا چاہیے یا دل ہی دل میں کہنا چاہیے؟
سوال
نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد اونچی آواز میں آمین کہنا چاہیے یا دل میں؟
جواب
نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آہستہ آواز سے ’’آمین‘‘ کہنا افضل ہے، لیکن آہستہ کا مطلب یہ نہیں کہ زبان سے تلفظ کیے بغیر صرف دل ہی دل میں ’’آمین‘‘ کہہ لیا جائے، بلکہ زبان سے تلفظ کرنا ضروری ہے، اور افضل یہ ہے کہ اتنی آواز سے کہا جائے کہ کم از کم اپنے کانوں میں آواز جائے۔ زبان سے تلفظ کیے بغیر دل ہی دل میں کہنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 475):
(والثناء والتعوذ والتسمية والتأمين) وكونهن (سرًّا.
(قوله: وكونهن سرًّا) جعل سرًّا خبرًا لكون المحذوف، ليفيد أن الإسرار بها سنة أخرى، فعلى هذا سنية الإتيان بها تحصل ولو مع الجهر بها ط عن أبي السعود.
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

