بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران دامن سیدھا کرنا

سوال

نماز کے دوران کسی بھی رکن میں دامن کو سیدھا کرنا ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے اس کا کیا حکم ہے؟ نیز یہ بھی بتلادیں کہ نماز کب فاسد اور کب مکروہ ہوگی؟ اور فاسد ہونے کی صورت میں اعادہ نماز واجب ہے یا پھر فقط سجدہ سہو سے ہی تلافی ہوجائے گی؟ اگر کسی فقہ کی کتاب کا حوالہ یا اصول بھی لکھ دیں تو مہربانی ہوگی۔

جواب

اگر نماز کے کسی رکن میں کپڑے کو  ضرورت کے تحت سیدھا کردیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ نماز کے دوران کپڑوں سے کھیلنا مکروہ تحریمی ہے، اور اگر کپڑے سیدھے کرتے کرتے عملِ کثیر پایا گیا تو نماز فاسد ہوجائے، اور اس کا اعادہ واجب ہوگا سجدۂ سہو سے فساد کی تلافی نہ ہوگی۔ عمل کثیر کی وضاحت مندرجہ ذیل لنک پر ملاحظہ کریں:

عمل کثیر کی مقدار

الفتاوى الهندية  (3 / 355):
"يُكْرَهُ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَعْبَثَ بِثَوْبِهِ أَوْ لِحْيَتِهِ أَوْ جَسَدِهِ وَأَنْ يَكُفَّ ثَوْبَهُ بِأَنْ يَرْفَعَ ثَوْبَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ أَوْ مِنْ خَلْفِهِ إذَا أَرَادَ السُّجُودَ، كَذَا فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ".

حاشية رد المحتار على الدر المختار  (1 / 640):
"(قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود، بحر. وحرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200834
تاریخ07-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں