بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کی اقتدا میں تراویح

سوال

نابالغ عاقل بچے کے پیچھے نماز تراویح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فقہاء کرام نے جہاں امامت کی شرائط کا ذکر فرمایا ہے وہاں منجملہ شرائط کے ایک شرط بلوغ کی بھی ذکر فرمائی ہے یعنی امامت کا اہل وہ شخص ہے جو بالغ ہو، نا بالغ بچہ بالغ لوگوں کی امامت کا اہل نہیں،  لہذا نا بالغ بچہ تراویح میں بالغ لوگوں کی امامت نہیں کرا سکتا، اگرچہ وہ عاقل ہی کیوں نہ ہو  اور بالغ آدمی کی تراویح نابالغ کے پیچھے درست نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 550):
"وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة. اهـ". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200818
تاریخ07-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں