بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ورثاء میں پانچ بہنیں اورچچا زاد بھائی چھوڑے

سوال

میرے ماموں وفات پا چکے ہیں اور ان کی پانچ بہنیں ہیں جب کہ نا بیوی ہے نا کوئی اولاد. لیکن ماموں کے چاچا اور تایا کے بیٹے موجود ہیں تو وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل کے مرحوم ماموں کے کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ میں سے (اگر قرض ہے تو اس کی ادائیگی اور کوئی جائز وصیت کی ہے تو ایک تہائی ترکے میں سے اس کے نفاذ کے بعد، باقی کل ترکے کا) دو تہائی (%66.66)مرحوم کی پانچوں بہنوں میں برابر سرابر تقسیم کیا جائے گا، اور بقیہ ایک تہائی (%33.33)بطورِ عصبہ  مرحوم کے چچا زاد اور تایا زاد بھائیوں کو ملے گا، اور یہ ایک تہائی تمام چچازاد اور تایا زاد بھائیوں میں برابرتقسیم کیا جائے گا۔  چچا یا تایا کی بیٹیاں اگر ہیں تو انہیں شرعی حصہ نہیں ملے گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200809
تاریخ07-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں