بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بیٹی کی میراث کا حکم

سوال

ایک شخص فوت ہوچکا ہے، اس نے چار بیٹے، ایک سگی بیٹی اور ایک رضاعی بیٹی چھوڑ ی ہے، اب پو چھنا یہ ہے کہ رضاعی بیٹی کا میراث میں حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

میراث کا حق نسبی رشتہ میں ہوتاہے، رضاعی بیٹی شرعاً وارث نہیں بنتی، اس کا مرحوم کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہو ں اور باہمی رضامندی سے اسے ترکہ میں سے کچھ دے دیں تو یہ ان کی طرف سے احسان ہوگا، جس پر وہ اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے :

﴿وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ [النساء:8]
ترجمہ: اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول . ( تفسیر عثمانی)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200802
تاریخ06-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں