بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستقبل کی قیمت کے بدلے گندم بیچنا

سوال

ایک بندہ گندم خریدتا ہے، پھر وہ یہ گندم دوسرے بندے کو دیتا ہے اور اس کو اختیار دیتا ہے، چاہے وہ گندم کو اپنے پاس رکھے یا آگے فروخت کر دے، لیکن دینے والا بندہ کہتا ہے مجھ کو چھ ماہ یا آٹھ ماہ کے بعد جو ریٹ ہو اس کے حساب سے گندم کے مجھے پیسے دے دینا، کیا اس طرح کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سودے کے وقت قیمت طے کرنا ضروری ہے؛ لہذا اس شرط پر گندم دینا کہ اس کی مستقبل کی قیمت (مثلاً چھ ماہ بعد کی قیمت) اس کے بدلے ہو، یہ صورت ناجائز ہے؛ کیوں کہ اس میں قیمت مجہول ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 137):

"وجهالة الثمن تمنع صحة البيع."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108200768
تاریخ06-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں