بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دلہا کا اپنا نکاح خود پڑھانا

سوال

 کیا دلہا اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے۔اور اسلام میں والد یا بھائی کا خطبہ نکاح دینا کیسا ہے؟

جواب

دلہااپنا نکاح خود بھی پڑھاسکتا ہے، اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ  مجلسِ نکاح میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں خطبہ میں پڑھی جانے والی آیات اور ایک دو احادیث بطورِ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد جس خاتون سے نکاح ہورہا  اس کے وکیل سے کہے  کہ میں نے اتنے مہر کے بدلہ آپ کی موکلہ فلانہ بنت فلاں سے نکاح کیا  (یا اسی خاتون سے کہیں کہ میں نے اتنے مہر کے بدلہ آپ سے نکاح کیا)اور وہ جواب میں کہے کہ میں نے قبول کیا تو نکاح ہوجائے گا۔

نیز خطبہ نکاح کوئی بھی پڑھ سکتا ہے؛ لہذا بھائی اپنے بھائی کا اور   بیٹا اپنے والد کے دوسرے نکاح کا خطبہ  پڑھ سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200716
تاریخ05-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں