بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائیوٹ حج سکیم کے لیے جمع کردہ رقم پر زکات کا حکم

سوال

کیاپرائیوٹ حج سکیم کے لیے جمع کردہ رقم پر زکات فرض ہے؟

 

جواب

 پرائیوٹ حج اسکیم میں  جمع کرائی گئی رقم واپس نہیں ملتی، بلکہ وہ حج کے اخراجات کی مد میں صرف ہوجاتی ہے، اس  لیے پرائیوٹ حج اسکیم میں  جمع شدہ رقم پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔

باقی حج کی نیت سے جو رقم صرف  الگ کی  ہو ، ابھی تک  جمع نہیں کرائی اور وہ اپنے پاس موجود ہے، یا سرکاری اسکیم میں جمع کرائی ہے اور ابھی تک قرعہ اندازی نہیں ہوئی، یاقرعہ اندازی ہوگئی اور ناکام امیدواروں میں نام آگیا تو سال گزرنے پر اس  رقم کی  زکاۃ اداکرنا لازم ہوگا، خواہ وہ رقم ابھی تک بینک سے نہ نکلوائی ہو۔ 

"إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضاً في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول".  (فتاوی شامی،2/ 262، کتاب الزکاة، ط: سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200622
تاریخ03-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں