سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟
سوال
سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کے عوض منافع کے نام سے کچھ رقم دی جاتی ہے، وہ رقم سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لیے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا نا جائز ہو گا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144108200614
تاریخ03-04-2020

