بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی با جماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو اقامت کا حکم کیا ہے؟

سوال

اگر میاں بیوی با جماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو اقامت کا حکم کیا ہے؟

جواب

گھر میں جماعت کراتے وقت (اگر محلے کی مسجد کی اذان کی آواز گھر پر آتی ہوتو) اقامت کہنا ضروری نہیں، محلے کی مسجد کی اذان و اقامت ہی کافی ہے،  لیکن گھر پر بھی اذان و اقامت کہنا بہتر ہے؛  لہذااگر مقتدی صرف بیوی ہے تو شوہر خود اقامت کہے اور نماز پڑھائے، بیوی اقامت نہیں کہے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكره تركهما) معًا (لمسافر) ولو منفردًا (وكذا تركها) لا تركه لحضور الرفقة (بخلاف مصل) ولو بجماعة (وفي بيته بمصر) أو قرية لها مسجد؛ فلايكره تركهما إذ أذان الحي يكفيه".(553/1) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200596
تاریخ03-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں