زکات کی مد میں پیسوں کے بجائے کوئی اور چیز دینے کا حکم
سوال
کیا زکاۃ کی مد میں کسی کو پیسوں کی بجائے چیزیں دے سکتے ہیں?
جواب
زکات کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکات کو کوئی بھی چیز مالک بناکر دینا شرط ہے، لہٰذا زکات کی نیت سے اگر کوئی بھی (قیمت والی) چیز کسی مستحقِ زکات شخص کو مالک بناکر دے دی جائے تو اس سے زکات ادا ہوجائے گی، چاہے پیسے دیے جائیں یا کوئی اور چیز(مثلاً راشن وغیرہ)۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144108200573
تاریخ03-04-2020

