بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وکیل بالزکاۃ اپنی مستحق والدہ کو زکاۃ دے سکتا ہے؟

سوال

ایک شخص کو کسی نے زکاۃ ادا کرنے کا وکیل بنایا، اب جس شخص کو وکیل بنایا گیا ہے ،اس کی والدہ زکاۃ کی مستحقہ ہیں،تو اب وہ شخص اپنی والدہ کو  زکاۃ کی رقم دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جس شخص کو کسی نے اپنی زکاۃ ادا کرنے کا وکیل بنایا ہے اور کسی متعین شخص کو زکاۃ دینے کا نہیں کہا تو وہ اس کی زکاۃ اپنی مستحق والدہ کو دے سکتا ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار(2 / 269):
"وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها: ضعها حيث شئت". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200559
تاریخ03-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں