بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حافظِ قرآن کے لیے تراویح میں قرآن سنانا

سوال

کیا حافظِ قرآن کے لیے تراویح پڑھانا فرض ہے؟

جواب

تراویح میں قرآن مجید سنانا سنت ہے اور بڑے اجر وثواب کا کام ہے، اس لیے حافظِ قرآن کو  خصوصًا تراویح میں مکمل قرآن سنانے کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ تراویح میں قرآن سنانا فرض نہیں ہے، اس لیے کسی عذر کی وجہ سے تراویح میں کسی حافظ نے قرآن نہیں سنایا تو  گناہ گار نہیں ہوگا، تاہم سنانے کے ثواب سے محروم ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 117):

السنة في التراويح إنما هو الختم مرةً فلايترك لكسل القوم، كذا في الكافي.

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200538
تاریخ02-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں