طلاق کی دھمکی
سوال
اگر بیوی کو بار بار طلاق کی دھمکی دی جائے کہ میں تم کو طلاق دے دوں گا، جب کہ شوہر کا ارادہ اسے کسی برائی سے روکنے کا ہو، طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو،تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ جملہ: "میں تم کو طلاق دے دوں گا" طلاق کا وعدہ یا دھمکی ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، البتہ بیوی کو ڈرانے یا کسی کام سے روکنے کے لیے طلاق کا دھمکی کو ذریعہ بنانا درست نہیں ہے، بعض اوقات ایسی دھمکیوں کی وجہ سے ازدواجی زندگی پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں، نیز بعض اوقات اگرچہ مقصود طلاق کی دھمکی دینا ہوتا ہے، لیکن غلطی سے یا لاعلمی میں شوہر کی زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جن سے نیت کے بغیر ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے، جو عمر بھر پچھتاوے کا باعث بن جاتا ہے؛ لہٰذا احتیاط کی جائے۔
الفتاوى الهندية (1/ 384):
"في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق لايكون طلاقًا."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

