بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک لاکھ کی رقم ہو تو زکاۃ کا استحقاق

سوال

اگر ایک شخص کے پاس اپنا پلاٹ یا گھر نہیں ہے اور گھر یا پلاٹ خریدنے کی رقم بھی نہیں، لیکن اس کے پاس 1لاکھ روپے کی رقم موجود ہے تو کیا وہ شخص زکات لینے  کا مستحق ہے یا نہیں؟

جواب

ایک  لاکھ روپے چاندی کے نصاب کی مالیت سے زیادہ ہیں، اس لیے اگر ایک  لاکھ روپے  بنیادی اخراجات (ماہانہ یوٹیلیٹی وغیرہ کے اخراجات اور قرض) سے زائد ہیں تو ان پیسوں کے ملکیت میں ہوتے ہوئے مذکورہ شخص زکات لینے کا مستحق نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

" لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. ... ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية ۔ ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي".

(1/189، باب المصرف، کتاب الزکاة، ط: رشیدیه) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200532
تاریخ02-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں