بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کو نماز میں ربنالک الحمد کہنا چاہیے یا نہیں؟

سوال

امام کو نماز میں"ربنا لك الحمد" کہنا چاہیےہے یا نہیں?

جواب

امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ صرف "سمع الله لمن حمده" پڑھے اور  "ربنا لك الحمد" مقتدی پڑھیں گے، البتہ اگر امام  بھی  "ربنا لك الحمد" پڑھ لے تو اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی۔ 

الفتاوى الهندية (1/ 74):

"فإن كان إماماً يقول: سمع الله لمن حمده بالإجماع، وإن كان مقتدياً يأتي بالتحميد ولايأتي بالتسميع بلا خلاف، وإن كان منفرداً الأصح أنه يأتي بهما، كذا في المحيط، وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية وهو الأصح". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200525
تاریخ02-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں