بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراب کی خالی بوتلیں بیچنا

سوال

شراب کی خالی بوتل کی بیع کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر یہ یقین ہو کہ شراب کی خالی بوتل خریدنے والا اسے شراب پینے یا کسی حرام کام میں استعمال کرے گا تو ایسے شخص کو شراب کی خالی بوتل بیچنا ناجائز ہے۔

 اگر یہ یقین ہو کہ  شراب کی خالی بوتل خریدنے والا شخص اس بوتل کو کسی جائز کام میں استعمال کرے گا تو بیچنے کی اجازت ہے۔

لیکن عام طور پر شراب کی بوتل جائز کاموں میں استعمال نہیں کی جاتی لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108200492
تاریخ02-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں