بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے صدقہ اعلانیہ کرنا چاہیے یا چھپا کر؟

سوال

کیا اس وائرس کے زمانے میں صدقہ اعلانیہ کرے  یا چھپا کر؟  اگر علانیہ کرنے کی گنجائش ہو؛ تا کہ دوسروں کو ترغیب حاصل ہو تو مدلل جواب دیں!

جواب

عمومی اَحوال میں صدقاتِ واجبہ، جیسے زکاۃ، فطرانہ وغیرہ ظاہر کرکے دینے کی اجازت ہے، البتہ صدقاتِ نافلہ پوشیدہ دینا چاہیے؛ تاکہ ریا کاری پیدا نہ ہو۔ البتہ بعض مواقع پر صدقۂ واجبہ کا اظہار ضروری اور بعض مواقع پر اِخفا لازم ہوگا، (مثلاً: ریا کا اندیشہ ہو یا سفید پوش کی پردہ دری یا تحقیر کا پہلو نکلتاہو، یا تصویر کشی کے ساتھ دیا جارہاہو) اسی طرح بعض اوقات دوسروں کی ترغیب کی نیت سے یا کسی اور مصلحت کے پیشِ نظر  نفلی صدقہ ظاہر کرکے بھی دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ریاکاری پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ الغرض اَحوال کے اعتبار سے اس کی افضلیت بدل سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200487
تاریخ01-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں