بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے لیے بلاوجہ گھر میں جماعت کرانا

سوال

فرض نماز کے لیے بلا وجہ مسجد میں جماعت کی نماز چھوڑ کر گھر میں جماعت کروانا کیسا ہے؟

جواب

جماعت سے نماز ادا کرنا مردوں کے لیے سنتِ مؤکدہ، بلکہ حکم کے اعتبار سے واجب کے قریب ہے، بلاعذر مسجد کی جماعت ترک کرنا گناہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے بغیر عذر جماعت ترک کرنے والوں کے لیے وعیدیں بیان فرمائی ہیں، ایسے لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ ظاہر فرمایا، لہٰذا بلاوجہ مسجد میں فرض نماز کی جماعت چھوڑ کر گھر میں جماعت کروانا درست نہیں، تاہم اگر کوئی معتبر عذر (مثلاً: مرض، تیز بارش وغیرہ) ہو تو اس کی اجازت ہے۔  فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200463
تاریخ01-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں