بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان لڑکے کا عیسائی لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

کیا مسلم لڑکا اور عیسائی لڑکی کی شادی ہوسکتی ہے؟

جواب

عیسائی گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی  سے نکاح کرنے کی چند صورتیں ہیں:

1۔ اگر وہ مسلمان ہوجائے  تو اس سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے۔

2۔اگر وہ عیسائی (یا یہودی) مذہب کی پیروکار رہے  تو اس سے نکاح کرنامکروہ ہے، کیوں کہ ان کے ساتھ بود و باش کی صورت میں اپنے یا اپنے بچوں کے دین اوران کی  اسلامی روایات کو بچانا مشکل ہے۔

3۔ اگر وہ کسی آسمانی دین کی ماننے والی نہیں، بلکہ دہریہ ہے تو ان سے نکاح کرنا جائزنہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 281):

'ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرةً كانت أو أمةً، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لا يفعل۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200426
تاریخ01-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں