بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، تین بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

 میرے نانا ابو فوت ہو گئے ہیں ، اب ان کا ترکہ تقسیم کرنا ہے ، جس کی مالیت 60لاکھ ہے ، وارثوں میں تین بھائی ، پانچ بہنیں   اور ایک والدہ ہے ۔ ان میں وراثت کی تقسیم کیا ہو گی؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ تین بھائیوں اور پانچ بہنوں سے مراد بظاہر مرحوم کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور والدہ سے مراد بظاہر مرحوم کی بیوہ ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 88 حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 11 حصے مرحوم کی بیوہ کو ، 14  حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے،لہذا 60 لاکھ  روپے میں سے 750000  روپے مرحوم کی بیوہ کو ، 954545.45 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور  477272.72   روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200410
تاریخ31-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں