بیوہ، تین بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
سوال
میرے نانا ابو فوت ہو گئے ہیں ، اب ان کا ترکہ تقسیم کرنا ہے ، جس کی مالیت 60لاکھ ہے ، وارثوں میں تین بھائی ، پانچ بہنیں اور ایک والدہ ہے ۔ ان میں وراثت کی تقسیم کیا ہو گی؟
جواب
سوال میں ذکر کردہ تین بھائیوں اور پانچ بہنوں سے مراد بظاہر مرحوم کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور والدہ سے مراد بظاہر مرحوم کی بیوہ ہے، اگر ایسا ہی ہے تو صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 88 حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 11 حصے مرحوم کی بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے،لہذا 60 لاکھ روپے میں سے 750000 روپے مرحوم کی بیوہ کو ، 954545.45 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 477272.72 روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

