بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

التحیات میں سلام پڑھتے ہوئے کیا نیت ہو؟

سوال

 نماز میں التحیات پڑھتے وقت ہم بارگاہ ِ  عالی میں جب  السلام علیك أیھا النبي پڑھتے ہیں تو اس وقت ہمارا عقیدہ کیا ہو کہ ہم براہِ راست سلام پیش کر رہے ہیں یا کہ یہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا ا پنے حبیب سے کلام ہے؟براہِ مہربانی راہنمائی فرمائیں!

جواب

نماز  میں التحیات  پڑھتے  وقت  یہ  ذہن ہو  کہ  یہ الفاظ  اللہ  تعالی  نے  نبی  کریم  ﷺ  سے  فرمائے  تھے اور  اللہ تعالیٰ   ہمارے  ان الفاظ کی ادائیگی کو بطورِ  سلام فرشتوں کے ذریعے نبی کریمﷺ تک پہنچا دیں گے۔ فقط واللہ اعلم

مزید دیکھیے:

تشہد میں السلام علیک ایھا النبی پڑھتے ہوئے کیا تصور ہونا چاہیے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200368
تاریخ31-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں