حاکم کی اپیل پر نفلی روزہ رکھنے کا حکم
سوال
گزشتہ پیر کو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے قوم سے نفلی روزہ رکھنے اور توبہ استغفار کا کہا جس پر بہت سے لوگوں نے روزہ رکھا ، البتہ کچھ لوگوں نے اس روزے کو ناجائز کہا، کیا حاکم کے کہنے پر روزہ رکھنا یا دین کا کوئی اور عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر حاکم قوم سے نفلی روزہ رکھنے یا کوئی اور نیک عمل کرنے کی اپیل کرے؛ تاکہ توبہ و استغفار و اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا عذاب ہٹ جائے تو حاکم کی بات مانتے ہوئے نفلی روزہ رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ حاکم کسی پر زبردستی نہ کرے ۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

