دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول
سوال
لڑکا لڑکی اگر دو لوگوں کے سامنے ایجاب و قبول کریں تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے؟
جواب
اگر دو گواہ بالغ مسلمان مرد تھے تو مذکورہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، تاہم بڑوں(والدین وغیرہ) کی رضامندی یا اطلاع کے بغیر یوں چھپ کر نکاح کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً ناپسندیدہ عمل ہے، جس پر دونوں کو نادم و پشیمان ہونا چاہیے اور اپنے بڑوں کو جلد از جلد اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144108200353
تاریخ31-03-2020

