بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا میت کو غسل دینے اور دفن کرنے سے پہلے دعائے مغفرت (تعزیت) کرسکتے ہیں؟

سوال

میت کو غسل دینے اور دفن کرنے سےپہلے دعاۓ مغفرت کرسکتے ہیں؟

جواب

میت کو غسل دینے اور دفن کرنے سے پہلے دعائے مغفرت کرنے سے مراد اگر تعزیت کرنا ہو تو  اس کا جواب یہ ہے کہ غسل و دفن سے فارغ ہونے کے بعد تعزیت کرنا افضل ہے، البتہ اگر پس ماندگان میت کی وجہ سے زیادہ حزن و ملال کی کیفیت میں ہوں اور  انہیں قرار نہ آتاہو تو غسل و دفن سے پہلے تعزیت کی جاسکتی ہے۔ اور اگر دعائے مغفرت ہی مراد ہو تو وہ کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے، اس میں وقت کی کوئی تحدید نہیں۔ 

حاشية رد المحتار على الدر المختار  (2 / 241):
"(قوله: وأولها أفضل) وهي بعد الدفن أفضل منها قبله؛ لأن أهل الميت مشغولون قبل الدفن بتجهيزه؛ ولأن وحشتهم بعد الدفن لفراقه أكثر، وهذا إذا لم ير منهم جزع شديد وإلا قدمت لتسكينهم، جوهرة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200350
تاریخ31-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں