بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے علاج کے لیے اذان

سوال

کرونا وائرس کی وجہ سے مسجدوں میں اذانیں دی جارہی ہیں، اس کے متعلق آپ کا کیا مشورہ ہے؟

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہاءِ احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200314
تاریخ30-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں