7 بیٹیوں اور 3 بہنوں میں میراث کی تقسیم
سوال
ایک آدمی ہے، اس کے 7 بیٹیاں ہے ، 3 بہنیں ہیں، چچا کے بیٹے بھی ہیں۔ یہ آدمی فوت ہو گیا ہے ۔
نوٹ: اس آدمی کا والد جب فوت ہواتھا تو اس کی میراث میں جو حصہ اس بیٹے کا تھا وہ حصہ اس نے تحریر کیا اپنے اس بیٹے کو اب دونوں فوت ہو گئے ہیں ۔ اب اس کی میراث ان 7 بیٹیوں،3 بہنوں اور چچا کے بیٹے کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ورثا اس کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں، اس کے چچا کے بیٹے اس کے ورثا نہیں، لہذا اس کی میراث بیٹیوں اور بہنوں میں تقسیم ہوگی، اس کے چچا کے بیٹوں کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔
مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو 63 حصوں میں تقسیم کرکے 6،6 حصے ہر بیٹی کو اور 7،7 حصے ہر بہن کو ملیں گے۔
فی صد کے اعتبار سے 9.52 فی صد ہر بیٹی کو اور11.11 فی صد ہر بہن کو ملے گا۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

