بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھابی کو مخاطب کرکے "آئیں چلیں" کہنے سے طلاق نہیں ہوگی

سوال

 زید اور  زید کی بیوی اور  بھابھی ساس کے گھر گئی تھیں ،رات گزاری ، صبح کے وقت زید نے بھابھی سے مخاطب ہوکرکہا: آئیں چلیں ، اس وقت زید کی طلاق کی نیت نہیں تھی، دو یا تین سیکنڈ بعد زید کو طلاق کا وسوسہ آیا،کیا زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

زید کا اپنی بھابی کو مخاطب کرکے یہ کہنا کہ "آئیں چلیں " اس سے زید کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، نیزمحض خیالات اور  وسوسوں سے طلاق نہیں ہوتی، اس لیے زید  کو وساوس  کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 224):

’’قال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل: موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره. وعن الليث: لا يجوز طلاق الموسوس‘‘. 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200280
تاریخ30-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں